Democracy plight

ارتقائی سفر طے کرتے انسان نے اب تک جس نظام حکومت کو اپنے لیے سب سے بہتر سمجھا  اسے عرف عام میں جمہوری نظام کہا جاتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک  میں  یہ نظام حکومت راج ہے کہیں اسے  کمزور تو کہیں طاقتور سمجھا جاتا  ہے۔
اس نظام حکومت کی خاص بات یہ ہے کہ اس نظام میں اقتدار میں آنے کے لئے ایک عوامی تحریک چلائی جاتی ہے۔ اس تحریک میں عوام کے مسائل کے حل کے لئے مختلف امیدواران مختلف پالیسیاں عوام کے سامنے بیان کرتے ہیں اور  اقتدار میں آنے کی صورت میں ان پالیسیوں  کے   اطلاق  کا وعدہ بھی کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ملکی مسائل اور ترجیحات کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے۔یوں اگر یہ کہا جائے کہ اس انتخابی مہم میں کسی حد تک عام عوام کی ذہن سازی کی جاتی ہے تو بےجا نہ ہو گا۔یوں انتخابات کی صورت میں عوام کی اکثریت اپنے اپنے ملکی اور  ذاتی مسائل و ترجیحات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک امیدوار کا انتخاب کرتی ہے۔ یوں حکومت سازی کے بعد اس حکومت نے عوام سے کئے وعدے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ عوام بھی وقتاً فا وقتاً ان عوامی یا پھر جمہوری حکمتوں کو ان سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی بھی کروتی رہتی ہیں اور دباؤ بھی بڑھاتی رہتی ہیں۔
اس ساری کہانی میں جو سب سے اہم نقطہ ہے وہ عوامی  مہم کی صورت میں کی جانے والی ذہن سازی ہے۔اگر اس ذہن سازی کو جمہوریت کی روح کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ کیونکہ جمہوری روایات کے مطابق یہ ذہن سازی مثبت بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ اس عمل میں انسانی حقوق کی بات کی جانی چاہیے، معاشرے کی فلاح کی بات کی جانی چاہیے، معاشرے میں اور  دنیا میں پھیلی بدامنی کے خاتمے میں کردار ادا کرنے کی بات کی جانی چاہیے، معاشرے کے غریب اور نادار طبقے کے لیے کام کرنے کے وعدے کیے جانے چاہیں وغیرہ وغیر۔یہی عمل جمہوری  نظام کی بقاء کا بھی ضامن ہے  اور اس نظام کے پھیلنے پھولنے کی بھی سند ہے۔
یوں تو شروع دن سے ہی اس جمہوری ذہن سازی کے عوامی  عمل کو ذاتی مفادات کے لئے منفی طریقے سے استعمال کیا گیا اور اس سارے عمل کی سزا دنیا نے بھی اور ملکوں نے بھی اجتماعی یا انفرادی طور پر پائی۔ اس کی انتہائی واضح مثال ہٹلر کی اقتدار کی کرسی تک پہچنے کے لئے جرمن عوام کی انتہاء پسندانہ اور قوم پرستانہ ذہن سازی تھی اور اسی ذہن سازی نے کروڑوں لوگوں کی جان لے لی، دنیا کو بڑا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا وغیر وغیرہ۔ اگر بات ملکی سطح پر اس منفی ذہن سازی کے نقصانات کی کی جائے تو اس وقت امریکہ میں نسلی امتیاز کے حوالے سے مظاہرے اور جھڑپیں ہیں۔کیونکہ پولیس کی ظالمانہ حرکت کا اصل ذمہ دار وہ صاحب اقتدار طبقہ تھا جس نے دوران الیکشن مہم اپنی کامیابی کے لیے   اس طرح کے منفی رجحانات کا استعمال کیا تھا۔  آج ریاستی ادارے تک انہی تعلیمات کا عملاً مظاہرہ کر رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے کئی بڑی بڑی مہذب جمہوری ریاستوں میں مختلف طبقے اقتدار کے حصول کے لئے غیر جمہوری اور تباہ کن نظریات کا سہارا لے رہے ہیں۔ اگر بات امریکہ کی ہی کی جائے تو آنے والے نومبر میں ہونے والے الیکشن میں کامیابی کے لئے چین کو سبق سکھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں، نسلی امتیازات کو ہوا دی جا رہی ہے، اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے عالمی ادارے صحت کو نفرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ان سب عوامل میں کوئی تعمیری پہلو نظر نہیں آ رہا ہے بلکہ یہ تو دنیا کو ایک عالمی جنگ کی طرف دھکیلنے والی بات ہے۔ اگر بات دنیا کی بڑی جمہوریت کی کی جائے تو وہاں بھی اقتدار کی کرسی کے لئے کچھ ایسا ہی کیا گیا تھا۔ انڈیا میں اقلیتوں کے ساتھ کیا جانے والا ظلم بھی دراصل انہی تعلیمات کا نتیجہ ہیں۔حالات ہمارے ہاں بھی مختلف نہیں ہیں۔ اقتدار کی کرسی پر براجمان  رہنے  کے لیے  کہیں صوبائی تو کہیں نسلی تعصبات کو ہوا دی جا رہی ہے۔
جمہوریت کی اصل روح شاید اب دنیا میں   سسکیاں لے رہی ہے اور اپنے بقاء کی فریاد بھی کر رہی ہے۔ اقوام عالم کے پاس وقت انتہائی کم ہے کیونکہ کہ اب کی بار جمہوریت کی اصل روح کے خاتمے کا مطلب دنیا سے انسان کا خاتمہ ہو گا کیونکہ انسان انسانوں کو تلف کرنے والے  سیکڑوں ہتھیاروں سے لیس ہو چکا ہوا  ہے بس جمہوری رویوں کی آخری ہچکی کا انتظار ہے۔
اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے  حضرت انسان کو چاہیے کہ معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور ایک ایسے چارٹر کی بنیاد رکھیں  جس کے تحت ہر اس شخص یا پارٹی کو اقتدار کے لئے ہمیشہ کے لیے   نااہل قرار دے دیا جائے جن کی عوامی مہمیں جمہوری روایات کے منافی ہوں۔ کیونکہ انتخابی مہم کے لئے ڈھیروں ایسے گلوبل اور نیشنل مسائل ہیں جن کا پرچار کیا جا سکتا ہے مثلاً ماحولیاتی تبدیلیاں،غربت کا خاتمہ،وباؤں سے نپٹنے کے لئے جامعہ اور مشترکہ پالیسیوں لانے کی کوششیں۔۔۔ کرونا سے سہمی عوام ضرور ایسے نظریوں کی حمایت کرتی نظر آئی گی۔ اور شاید جمہوریت کی بھی یہی فریاد ہے۔
نظریات اختلاف ہو سکتا ہے اور ٹائپنگ کی غلطیوں کے لئے پیشگی معذرت۔ 
تحریر ثاقب کیانی

Comments

Post a Comment